ہم پہ اترا ہوا عذاب سمجھ
زندگی کو زمیں کا خواب سمجھ
ویسے پانی ہی پی رہا ہوں میں
دوستا! تُو اسے شراب سمجھ
اور تھوڑا سا پاس آ کر دیکھ
دیکھ! دریا کا اضطراب سمجھ
میرے کمرے کو آسماں گردان
اپنی تصویر ماہ تاب سمجھ
وقت کی بات مان لے بہنام
چند لمحوں کو بے حساب سمجھ
بہنام احمد
No comments:
Post a Comment