Thursday, 18 August 2022

برکھا رت برستی برکھا ہمارے اشکوں کی آخری یاد بن کے

 برکھا رُت


برستی برکھا

ہمارے اشکوں کی آخری یاد بن کے

ویران ریگزاروں

کہیں پہ مدفون شہر کی زیست کے مزاروں

کہیں عقوبت کدوں میں

ظلم و ستم کی سُولی پہ

مرنے والوں کی یادگاروں کو

تازگی کا پیام دے گی

برستی برکھا

ہماری روحوں کے حادثوں کی پیامبر بن کے

آنے والی سبھی رُتوں سے

ہمارے خوابوں کی ان کہی داستاں کہے گی

برستی برکھا

ہماری بے خواب، رتجگوں کی اسیر

بوجھل، حسین آنکھوں

کی کلفتوں کا نشاں کہے گی

برستی برکھا

بہار رُت میں ہمارا موسم خزاں کہے گی


حماد یونس

No comments:

Post a Comment