بھیگے موسم کی ایک نظم
یہ موسم بھیگا موسم ہے
اور بارش ٹوٹ کے برسی ہے
اس موسم نے مِرے اندر کے
ہر موسم کو چونکایا ہے
چُپ چاپ سا شور مچایا ہے
احساس کے پاگل پن کو لیے
اک ست رنگی جو قوس بنی
مِری روح پہ ایسے چھائی ہے
اس موسم پگلے موسم میں
یہ پلکیں بھیگی بھیگی سی
اور آہوں کی دلگیر صدا
بس خاموشی کے لہجے میں
سب باتیں دل کی کہتی ہے
کُچھ اندر میرے جل تھل ہے
کچھ باہر رِم جھِم بوندیں ہیں
یخ بستہ سی اِن راتوں میں
سب یاد کے جگنو چار طرف
من مندر کی اس چوکھٹ پر
آسیب کی صورت پھیلے ہیں
مِرے اندر کی اس بارش میں
جو برس برس کر روز اور شب
اس دل کی پیاسی دھرتی کی
کچھ اور بھی پیاس بڑھاتی ہے
سب خواب بھی چکنا چُور ہوئے
ارمان بھی دل سے دور ہوئے
اشکوں کی مالا ٹوٹ گئی
یہ جو اندر میرے بارش ہے
اور بھیگا موسم ہے
دونوں کا لہجہ ایک سا ہے
دونوں کا رشتہ ایک سا ہے
یہ جو اندر باہر پانی ہے
دونوں کی ایک کہانی ہے
رضوانہ تبسم درانی
No comments:
Post a Comment