دل والے ہیں ہم رسمِ وفا ہم سے ملی ہے
دنیا میں محبت کو بقا ہم سے ملی ہے
وہ خندہ بہ لب ذکرِ گلستاں پہ یہ بولے
غنچوں کو تبسم کی ادا ہم سے ملی ہے
ہم وہ ہیں کہ خود پھونک دئیے اپنے نشیمن
گلشن کے اندھیروں کو ضیا ہم سے ملی ہے
کیا ایک ہی محور پہ ہے ٹھہری ہوئی دنیا
وہ جب بھی ملی ہے تو خفا ہم سے ملی ہے
وہ بت جو خدا آج بنے بیٹھے ہیں ان کو
یہ شانِ خدائی بخدا ہم سے ملی ہے
ہم ٹھہرے ہیں طوفانِ حوادث کے مقابل
بڑھ بڑھ کے گلے موجِ بلا ہم سے ملی ہے
سیکھا ہے جلانے کا چلن شمع نے تم سے
پروانوں کو جلنے کی ادا ہم سے ملی ہے
ہم اہلِ محبت ہیں لہو دیتے ہیں راہی
بے نور چراغوں کو ضیا ہم سے ملی ہے
راہی شہابی
No comments:
Post a Comment