Thursday, 14 October 2021

گھنیری زلف کے سائے گلابی جام ہونٹوں کے

 دستک


گھنیری زُلف کے سائے

گلابی جام ہونٹوں کے

سبھی تھے منتظر کب سے

کہ تم اب لوٹ کے آؤ

مگر افسوس کہ تم نے

لگائی دیر آنے میں

ابھی کچھ روز پہلے ہی

کواڑوں پر مرے دل کے

ہوئی تھی موت کی دستک

مرے ویران سے دل نے

رسائی اس کو دے دی تھی

یہاں اب اس کا پہرا ہے

اندھیرا ہی اندھیرا ہے

سُنو، تم لوٹ جاؤ اب

اُسی مصروف دنیا میں

جہاں تم کو کبھی پہلے

نہ میری یاد آتی تھی


زرقا مفتی

No comments:

Post a Comment