Sunday, 23 May 2021

مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے

 مے ملے یا نہ ملے رسم نبھا لی جائے

خالی بوتل ہے تو خالی ہی اُچھالی جائے

ہم بھی ہیں سینہ سِپر آپ بھی شمشیر بکف

بات تو جب ہے کوئی وار نہ خالی جائے

گھر کے آنگن میں تعصب کی یہ سڑتی ہوئی لاش

کتنے دن بیت گئے اب تو اُٹھا لی جائے

کیا تعجب ہے کہ کچھ سوتے ہوئے جاگ اُٹھیں

سُونی بستی میں اک آواز لگا لی جائے

کل جو آئیں وہ اندھیروں میں نہ بھٹکیں راہی

لاؤ اک شمع سرِ راہ جلا لی جائے


راہی شہابی

No comments:

Post a Comment