یہ بے قراریاں کب تک مجھے ستائیں گی
کبھی تو دل کی تمنائیں مسکرائیں گی
یہ ہجر رات، اداسی یہ سوگِ تنہائی
تمام عمر ہی ساتھ اب مِرا نبھائیں گی
بھلے ہی روز میری جان روٹھ جاؤ تم
مِری یہ منتیں تم کو یونہی منائیں گی
وہ کیا کہ تم ہو مِرے درد کی دوا ہمدم
یہ بات تم کو مِری دھڑکنیں بتائیں گی
اگر یہ حال کچھ اور دن رہا یوں ہی
جو سانس ایک دو باقی ہیں روٹھ جائیں گی
بس انتظار کی گھڑیاں ہیں ختم ہونے کو
تمہیں صدائیں مِری پھر کبھی نہ آئیں گی
یہ آنکھیں ایک تمہاری ہی منتظر ہیں فقط
یہ مر بھی جائیں تو کاشف تمہیں بلائیں گی
کاشف رانا
No comments:
Post a Comment