کہا میں نے؛ اگر ہم تم نہ مل پائے تو کیا ہو گا
کہا اس نے؛ وہی ہو گا جو منظورِ خدا ہو گا
کہا میں نے؛ قسم کھا کے کہو مجھ سے محبت ہے
کہا اس نے؛ ارے ناداں! فقط کہنے سے کیا ہو گا
کہا میں نے؛ یہ پلکوں کی حسیں چھاؤں مجھے دے دو
کہا اس نے؛ خزاں کی دکھ بھری شاموں کا کیا ہو گا
کہا میں نے؛ تری خاطر میں اپنی جان دے دوں گا
کہا اس نے؛ ذرا سوچو تمہاری ماں کا کیا ہو گا
کہا میں نے؛ کہ دلہن بن کے کب آؤ گی گھر میرے
کہا؛ جب مجھ کو اپنانے کا تم میں حوصلہ ہو گا
کہا میں نے؛ مری سوچوں کا محور بن گئی ہو تم
کہا اس نے؛ کہ پھر تو شاعری میں مسئلہ ہو گا
کہا میں نے؛ اگر میں مر گیا تو کیا کرو گی تم
کہا اس نے؛ کہ پورے تین دن ماتم بپا ہو گا
کہا میں نے؛ کہ آؤ مل کے ہو جائیں مکمل ہم
کہا' تکمیل سے بڑھ کر ادھورا پن بھی کیا ہو گا
زوہیب حسن
No comments:
Post a Comment