نظموں کا قبرستان
کچھ نظمیں ہیں
جو سینے میں رہ جاتی ہیں
گُھٹ گُھٹ کر مر جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں
جو ہاتھوں کی ریکھاؤں میں رہتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں جو آنسو بن کر بہتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں
جو چھالے بن کر پاؤں پڑ جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں جو خنجر بن کر سینے میں گَڑ جاتی ہیں
کچھ نظمیں ناخن ہوتی ہیں
سِلے سِلائے زخموں کو کُھجلاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں
جو دشمن بن کر یکدم سامنے آ جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں جو غزلوں کو کھا جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہاتھ سوالی ہوتی ہیں
اندر سے خالی ہوتی ہیں
کچھ نظمیں دل کی بھٹی میں پَک جاتی ہیں
کچھ نظمیں ہیں
جو صدیوں ذہن میں چلتے چلتے
تھک جاتی ہیں
بس اک دو مصرعوں تک جاتی ہیں
کچھ نظمیں جن کا بوجھ اٹھا کر
لفظوں میں خم آ جاتا ہے
کچھ نظمیں کِھل کر کُھلتی ہیں
پر لکھنے لگو تو لکھتے لکھتے
آنکھوں میں غم آ جاتا ہے
اور پھر یہ غم
دھیرے دھیرے
شاعر کو کھا جاتا ہے
تم کیا جانو
کتنا گہرا
اور خاموش ہے
میرے اندر کا انسان
نظموں کا قبرستان
ذاکر رحمان
No comments:
Post a Comment