Monday, 13 December 2021

جنون عشق جو معیار سے گزارے مجھے

 جنونِ عشق جو معیار سے گزارے مجھے

مگر وہ پہلے کسی دار سے گزارے مجھے

کچھ اس لیے بھی وہ دروازے بند کرتا گیا

وہ چاہتا تھا کہ دیوار سے گزارے مجھے

اگر وہ چاہتا ہے مجھ کو خوشبوؤں جیسا

تو خود ہوا بنے، اشجار سے گزارے مجھے

فلک میں تارے بھروں، چاند میں دھنک گھولوں

مِرا شعور جو افکار سے گزارے مجھے

میں خود کو عرض و سماوات سے گزاروں گا

جو زندگی مِری رفتار سے گزارے مجھے

کسی طرح مِرے دشمن! تجھے سکون آئے

لے میرا دوست ہی تلوار سے گزارے مجھے

عزیز ہے اسے تشہیر اپنی بھی احسان

وگرنہ یوں نہ وہ اخبار سے گزارے مجھے


احسان گھمن

No comments:

Post a Comment