عشق تو دور، عبادت نہیں کرنے دیتے
دُکھ بزرگوں کی بھی عزت نہیں کرنے دیتے
ایسا جادو بھرا لہجہ ہے کہ اس کے وعدے
ہم سے باغی کو بغاوت نہیں کرنے دیتے
پھول کلراٹھی زمینوں میں کہاں کھلتے ہیں
رنج بچوں کو شرارت نہیں کرنے دیتے
اب کسی بات پہ لڑتے ہی نہیں ہیں تم سے
تیرے لہجے ہی شکایت نہیں کرنے دیتے
لوگ ملتے ہیں بہت چاہنے والے، لیکن
ہجر کے زخم ، محبت نہیں کرنے دیتے
غول کے غول مِرے صحن میں آ بیٹھتے ہیں
یہ پرندے مجھے ہجرت نہیں کرنے دیتے
مُرشدی ایک نظر دِید کے ماروں کی طرف
جن کو حالات زیارت نہیں کرنے دیتے
نعمان بدر
No comments:
Post a Comment