Thursday, 4 August 2022

جون کا تپتا مہینہ ہے بہت گرمی ہے

 جون کا تپتا مہینا ہے بہت گرمی ہے

سارا ماحول دہکتا ہے بہت گرمی ہے

دھوپ ہی دھوپ کا عالم ہے جدھر بھی دیکھ

یعنی دشوار سا جینا ہے بہت گرمی ہے

حالت ایسی ہے کہ کچھ بھی نہیں کہتے بنتا

بس پریشان سی دنیا ہے بہت گرمی ہے

تُو کہاں ہے؟ یہ بتا ٹھنڈی ہوا کے جھونکے

تیرے بن جی نہیں لگتا ہے بہت گرمی ہے

صرف انسان ہی نہیں، کھیت، مویشی، دریا

جس کو دیکھو وہی پیاسا ہے بہت گرمی ہے

جلتے سورج کی عنایات کا کیا ذکر کروں

سر پہ اک آگ کا گولا ہے بہت گرمی ہے

اے خدا! بھیج کوئی اور سہانا موسم

دھوپ سے تن جلا جاتا ہے بہت گرمی ہے

لُو کے جھکڑ سے دہکتا ہوا کمرہ ہے فراق

گھر میں کولر ہے نہ پنکھا ہے بہت گرمی ہے


فراق جلالپوری

No comments:

Post a Comment