جون کا تپتا مہینا ہے بہت گرمی ہے
سارا ماحول دہکتا ہے بہت گرمی ہے
دھوپ ہی دھوپ کا عالم ہے جدھر بھی دیکھ
یعنی دشوار سا جینا ہے بہت گرمی ہے
حالت ایسی ہے کہ کچھ بھی نہیں کہتے بنتا
بس پریشان سی دنیا ہے بہت گرمی ہے
تُو کہاں ہے؟ یہ بتا ٹھنڈی ہوا کے جھونکے
تیرے بن جی نہیں لگتا ہے بہت گرمی ہے
صرف انسان ہی نہیں، کھیت، مویشی، دریا
جس کو دیکھو وہی پیاسا ہے بہت گرمی ہے
جلتے سورج کی عنایات کا کیا ذکر کروں
سر پہ اک آگ کا گولا ہے بہت گرمی ہے
اے خدا! بھیج کوئی اور سہانا موسم
دھوپ سے تن جلا جاتا ہے بہت گرمی ہے
لُو کے جھکڑ سے دہکتا ہوا کمرہ ہے فراق
گھر میں کولر ہے نہ پنکھا ہے بہت گرمی ہے
فراق جلالپوری
No comments:
Post a Comment