Thursday, 4 August 2022

جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو

 جو روز کی ہے بات وہی بات کرو ہو 

بے کار ہی یارو!! غمِ حالات کرو ہو 

اک مجھ سے ہی ملنے کو تمہیں وقت نہیں ہے 

اوروں پہ تو اکثر ہی عنایات کرو ہو 

یہ طرزِ تکلّم تمہیں آیا ہے کہاں سے 

ہونٹوں سے جو یہ پھولوں کی برسات کرو ہو 

کیوں چاند سے چہرے پہ گِرا رکھی ہیں زلفیں 

کیوں دن کو اماوس کی سیہ رات کرو ہو 

بے وہم و گماں راہ میں مل جاتے ہو اکثر 

دانستہ کہاں مجھ سے ملاقات کرو ہو 


جاوید نسیمی

No comments:

Post a Comment