Thursday, 4 August 2022

بلا سے اپنے گر اجنبی ہے

 بلا سے اپنے گر اجنبی ہے

مجھے محبت اسی نے دی ہے

ہمارے جیسا ہی سوچتا ہے

ہمارے جیسا ہی آدمی ہے

جو رستہ روکے کھڑی ہوئی تھی

وہ آج دیوار گر پڑی ہے

یہ شان و شوکت جو دیکھتے ہو

یہ سب دکھاوہ ہے ظاہری ہے

کہیں تو ہم کو بھی جا ملے گی

خدا کی دنیا بہت بڑی ہے

جو میں سمجھتا ہوں گفتگو ہے

جو تم سمجھتے ہو شاعری ہے

تمہاری چاہت مِرا اثاثہ

تمہاری چاہت ہی زندگی ہے

جو پیار دیتا ہے سب کو انجم

خدا قسم ہے، خدا وہی ہے


غنی الرحمٰن انجم

No comments:

Post a Comment