Thursday, 4 August 2022

یادیں پاگل کر دیتی ہیں باتیں پاگل کر دیتی ہیں

 یادیں پاگل کر دیتی ہیں

باتیں پاگل کر دیتی ہیں

چہرہ ہوش اڑا دیتا ہے

آنکھیں پاگل کر دیتی ہیں

تنہا چلنے والوں کو یہ

راہیں پاگل کر دیتی ہیں

دن تو خیر گزر جاتا ہے

راتیں پاگل کر دیتی ہیں


ن م دانش

نور محمد دانش

No comments:

Post a Comment