Thursday, 4 August 2022

کرب ہے اضطراب ہے لوگو

 کرب ہے اضطراب ہے لوگو

یہ محبت عذاب ہے لوگو

ایک پل بھولتا نہیں اس کو

دل بھی خانہ خراب ہے لوگو

محوِ حیرت ہوں اس کے ہاتھوں میں

شاعری کی کتاب ہے لوگو

اور تعریف کیا کروں اس کی

وہ مِرا انتخاب ہے لوگو

جس کو آتے ہوں گُر خوشامد کے

آدمی کامیاب ہے لوگو

یہ طبیعت تو اک بہانہ ہے

اس کی نیت خراب ہے لوگو

اصل چہرہ دکھائی دے کیونکر

ان کے رخ پر نقاب ہے لوگو

ہم کریں تو گناہ کہلائے

وہ کریں تو ثواب ہے لوگو

جس کو ذرّہ مثال کہتے تھے

آج وہ آفتاب ہے لوگو


روبینہ شاد

No comments:

Post a Comment