کرب ہے اضطراب ہے لوگو
یہ محبت عذاب ہے لوگو
ایک پل بھولتا نہیں اس کو
دل بھی خانہ خراب ہے لوگو
محوِ حیرت ہوں اس کے ہاتھوں میں
شاعری کی کتاب ہے لوگو
اور تعریف کیا کروں اس کی
وہ مِرا انتخاب ہے لوگو
جس کو آتے ہوں گُر خوشامد کے
آدمی کامیاب ہے لوگو
یہ طبیعت تو اک بہانہ ہے
اس کی نیت خراب ہے لوگو
اصل چہرہ دکھائی دے کیونکر
ان کے رخ پر نقاب ہے لوگو
ہم کریں تو گناہ کہلائے
وہ کریں تو ثواب ہے لوگو
جس کو ذرّہ مثال کہتے تھے
آج وہ آفتاب ہے لوگو
روبینہ شاد
No comments:
Post a Comment