Tuesday, 4 October 2016

سکوت شب سے تکلم کی ابتدا تو کرو

سکوتِ شب سے تکلّم کی ابتدا تو کرو
حدیثِ دل تو کہو، ذکرِ آشنا تو کرو
زمانے والے کبھی اہلِ دل سے جیتے ہیں
شکست ان کا مقدر ہے، تم دعا تو کرو
تمہِیں میں عکس تمہارا دکھا نہ دوں تو کہو
تم آئینے کی طرح میرا سامنا تو کرو
بجا ہے ترکِ تعلق مگر کبھی نہ کبھی
کسی بہانے سرِ رہگزر مِلا تو کرو

مقبول عامر

No comments:

Post a Comment