سکوتِ شب سے تکلّم کی ابتدا تو کرو
حدیثِ دل تو کہو، ذکرِ آشنا تو کرو
زمانے والے کبھی اہلِ دل سے جیتے ہیں
شکست ان کا مقدر ہے، تم دعا تو کرو
تمہِیں میں عکس تمہارا دکھا نہ دوں تو کہو
بجا ہے ترکِ تعلق مگر کبھی نہ کبھی
کسی بہانے سرِ رہگزر مِلا تو کرو
مقبول عامر
No comments:
Post a Comment