Wednesday, 2 June 2021

تلاش میں اس سے جدا ہوئی تو

 تلاش


میں اس سے

جدا ہوئی تو

اب یہ عالم ہے

دل مجھ کو

میں دل کو

ڈھونڈتی رہتی ہوں

پھر یوں ہوا کہ

اک راہ نکالی جائے

اک ترکیب لڑا لی جائے

بات نظموں کی

لفظوں میں ڈھالی جائے

دلِ وحشی کی نا مانی جائے


مریم ناز

No comments:

Post a Comment