Tuesday, 6 July 2021

ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں

 ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں

جیسے اس نے سوچ سمجھ کر لکھے ہیں

وہ خاموش ہُوا تو سُننے میں آئے

خاموشی کے کتنے سارے لہجے ہیں

ایک طرح سے شِکوہ ہے یہ پانی سے

صحرا میں اک شخص نے کنکر پھینکے ہیں

خالی پن کے کرب سے شاید واقف ہے

اس نے مجھ کو خالی میسج بھیجے ہیں

اپنے بارے میں بھی تھوڑا علم تو ہو

ہم مُدت سے اپنے بارے سوچتے ہیں

تنہائی سے محفل سینچی جاتی ہے

اک بندے کے کافی سارے سائے ہیں

جس منظر میں عبدل آنکھیں گھول چکا

اس منظر کو دیکھنے والے اندھے ہیں


عبدالرب

No comments:

Post a Comment