ہم نے اس کے سپنے ایسے دیکھے ہیں
جیسے اس نے سوچ سمجھ کر لکھے ہیں
وہ خاموش ہُوا تو سُننے میں آئے
خاموشی کے کتنے سارے لہجے ہیں
ایک طرح سے شِکوہ ہے یہ پانی سے
صحرا میں اک شخص نے کنکر پھینکے ہیں
خالی پن کے کرب سے شاید واقف ہے
اس نے مجھ کو خالی میسج بھیجے ہیں
اپنے بارے میں بھی تھوڑا علم تو ہو
ہم مُدت سے اپنے بارے سوچتے ہیں
تنہائی سے محفل سینچی جاتی ہے
اک بندے کے کافی سارے سائے ہیں
جس منظر میں عبدل آنکھیں گھول چکا
اس منظر کو دیکھنے والے اندھے ہیں
عبدالرب
No comments:
Post a Comment