Tuesday, 6 July 2021

اک خواب تھا مری آنکھوں میں وہ خواب سنانا بھول گئی

 اک خواب تھا مِری آنکھوں میں وہ خواب سنانا بھول گئی

کچھ یاد ہے مجھ کو سپنے میں، میں یار منانا بھول گئی

کل شب جو تجھ کو خط پہنچے، تھے سارے قصے لوگوں کے

میں اپنے دل کے جذبوں کو خطوں میں لکھنا بھول گئی

وہ دور رہے تو بے چینی، وہ پاس رہے تو ناسمجھی

وہ بزم میں آیا تھا لیکن میں ہاتھ ملانا بھول گئی

اس ہجر کی بھاشا سن سن کر میں دیس پیا کو جا پہنچی

وہاں سر اپنا میں چھوڑ آئی اور دل کو لانا بھول گئی

کوئی ایسا اِسم سنا ماہی! من رقصم رقصم ہو جائے

میں صورت ِتری تکتی رہوں اور کہہ دوں زمانہ بھول گئی


وشال سحر

No comments:

Post a Comment