اعتبارِ وفا
میں ہوں بیٹی زمیں کی، زمیں پر مجھے
اعتبارِ وفا اس طرح مل گیا
میری آدھی گواہی بھی پوری ہوئی
اِک نئے نور سے میں بھی نوری ہوئی
اپنے ہاتھوں میں محنت کی عظمت لیے
میں جُھکے سر کو اپنے اُٹھا کر چلی
خواب آنکھوں میں اپنی بسا کر چلی
پھول، خوشبو، ہوا میں اُڑا کر چلی
روشنی، روشنی میں ملا کر چلی
حوصلہ میرا اور ولولہ دیکھ کر
آسماں نے محبت سے دیکھا مجھے
اِس زمیں پر محبت کی تعمیر کا
کارِ فیض و عمل آج سونپا مجھے
بے ثباتی کی تصویر عالم میں جب
میرے دستِ حنائی نے رنگ بھر دئیے
میرے اُجلے بدن کے اُجالوں نے پھر
ظُلمتِ شب میں شام و سحر بھر دئیے
میں نے فکر و عمل سے یہاں چار سُو
فہم و ادراک کے آشیانے بھرے
جہل رُخصت ہوا، میری تعلیم نے
علم و فن اور ہُنر کے خزانے بھرے
میرے ہاتھوں کی محنت بھری اُنگلیاں
اِک نئی قوم تعمیر کرنے لگیں
میری آنکھیں، جو خوابوں کی خوگر رہیں
اب اُنہیں خود ہی تعبیر کرنے لگیں
اب نئی خوشبوئیں پھوٹتی ہیں بہت
میرے دستِ حنا کے چمن زار سے
اب مجھے اعتبارِ وفا مل گیا
یعنی خدمت کو میری صلہ مل گیا
حرف و قرطاس کو آسرا مل گیا
گوشہ گوشہ دمکتا ہے اب ذات کا
یوں بھرم اُس نے رکھا مِری بات کا
صف بہ صف تارے آنچل میں سجنے لگے
جلترنگ سے مِرے دل میں بجنے لگے
میں ہوں بیٹی زمیں کی، مجھے اب مگر
آسماں دیکھتا ہے بہت پیار سے
اب مجھے اعتبارِ وفا مل گیا
حجاب عباسی
No comments:
Post a Comment