محبت پیش گھر گھر کر رہا ہوں
میں تقلیدِ قلندر کر رہا ہوں
کہ دو گز کی عمارت کیلئے میں
اکٹھے اینٹ پتھر کر رہا ہوں
اداکاری، اداکاروں کا فن ہے
مگر ان سے میں بہتر کر رہا ہوں
میں اس کو چھوڑ کر اک داستاں میں
حساب اپنا برابر کر رہا ہوں
یقیناً کر چکی ہو گی زمیں بھی
ستم جو جو زمیں پر کر رہا ہوں
عین عمر
No comments:
Post a Comment