Tuesday, 7 December 2021

نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے

 نہ جانے کیسی آندھی چل رہی ہے

ہے جنگل خوش کہ بستی جل رہی ہے

کہیں پانی سے دھوکا کھا نہ جانا

یہ ندی مدتوں دلدل رہی ہے

تِرا سورج بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے

ہماری عمر بھی اب ڈھل رہی ہے

کوئی شکوہ نہیں ہم کو کسی سے

خود اپنی ذات ہم کو چھل رہی ہے

ہمیں برباد کر کے خوش بہت تھی

مگر اب ہاتھ دنیا مل رہی ہے

تمہارے لفظ شعلے کیوں ہوئے ہیں

غزل لگتا ہے جیسے جل رہی ہے


سردار آصف

No comments:

Post a Comment