Tuesday, 7 December 2021

اک داغ عشق یوں مری چادر میں آ گیا

 اک داغِ عشق یوں مِری چادر میں آ گیا

سوچا نہیں تھا جو وہ مقدر میں آ گیا

بے اختیار، عشق سے، پردہ اٹھا گیا

"دستک دئیے بغیر مِرے گھر میں آ گیا"

جب جب یہ زندگی مجھے بے آسرا لگی

سایہ کسی کے ہاتھ کا منظر میں آ گیا

خوشبو سی آ رہی ہے یہ کس کی قریب سے

دیکھوں تو اب یہ کون برابر میں آ گیا

چشمِ طلب میں پیاس کی جب انتہا ہوئی

صحرا بھی چل کے آپ سمندر میں آ گیا

رکھی تھی میں نے خود پہ بھی اتنی کڑی نظر

غدار کوئی کس طرح لشکر میں آ گیا

مہمان جان کر اسے کیسے کروں وداع

"دستک دئیے بغیر مِرے گھر میں آ گیا"


مہناز بنجمن

No comments:

Post a Comment