Tuesday, 7 December 2021

کانٹوں پہ چل رہا ہوں بظاہر سکون سے

 کانٹوں پہ چل رہا ہوں بظاہر سکون سے

نقشہ بنا رہی ہے زمیں میرے خون سے

جو خاک بھی اڑائی تو زلفوں کے سائے میں

وحشت کا کام بھی لیا میں نے جنون سے

ممکن ہے اس کے ذہن میں چہرہ ہو پھول سا

تلوار پر جو شخص کھڑا ہے سکون سے

بنیاد ہل رہی ہے زمیں آسمان کی

شہزادی رو رہی ہے لپٹ کے ستون سے

ہر سانس احتیاط سے لیتا ہوں اس لیے

دنیا سنور رہی ہے ابھی میرے خون سے

وحشت پسند ہم ہیں، سہولت پسند آپ

کیسا موازنہ ہے دسمبر کا جون سے

چہرے پہ درد دیکھ کے حیرت نہ کیجئے

تتلی نکل رہی ہے ابھی تو کوکون سے


اسلم راشد

No comments:

Post a Comment