کانٹوں پہ چل رہا ہوں بظاہر سکون سے
نقشہ بنا رہی ہے زمیں میرے خون سے
جو خاک بھی اڑائی تو زلفوں کے سائے میں
وحشت کا کام بھی لیا میں نے جنون سے
ممکن ہے اس کے ذہن میں چہرہ ہو پھول سا
تلوار پر جو شخص کھڑا ہے سکون سے
بنیاد ہل رہی ہے زمیں آسمان کی
شہزادی رو رہی ہے لپٹ کے ستون سے
ہر سانس احتیاط سے لیتا ہوں اس لیے
دنیا سنور رہی ہے ابھی میرے خون سے
وحشت پسند ہم ہیں، سہولت پسند آپ
کیسا موازنہ ہے دسمبر کا جون سے
چہرے پہ درد دیکھ کے حیرت نہ کیجئے
تتلی نکل رہی ہے ابھی تو کوکون سے
اسلم راشد
No comments:
Post a Comment