Tuesday, 7 December 2021

کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں

 کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں

ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے یہاں

بھیڑ چھٹ جائے گی پل میں یہ خبر اڑتے ہی

اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے یہاں

یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہے

بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں

کیا ملا دشت میں آ کر تِرے دیوانے کو

گھر کے جیسا ہی اگر جاگنا سونا ہے یہاں

کچھ بھی ہو جائے نہ مانوں گا مگر جسم کی بات

آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے یہاں

یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لمس

اب کسی اور کا ہونا مِرا ہونا ہے یہاں

اشک پلکوں پہ سجا لوں میں ابھی سے شارق

شب ہے باقی تو تِرا ذکر بھی ہونا ہے یہاں


شارق کیفی

No comments:

Post a Comment