کچھ قدم اور مجھے جسم کو ڈھونا ہے یہاں
ساتھ لایا ہوں اسی کو جسے کھونا ہے یہاں
بھیڑ چھٹ جائے گی پل میں یہ خبر اڑتے ہی
اب کوئی اور تماشا نہیں ہونا ہے یہاں
یہ بھنور کون سا موتی مجھے دے سکتا ہے
بات یہ ہے کہ مجھے خود کو ڈبونا ہے یہاں
کیا ملا دشت میں آ کر تِرے دیوانے کو
گھر کے جیسا ہی اگر جاگنا سونا ہے یہاں
کچھ بھی ہو جائے نہ مانوں گا مگر جسم کی بات
آج مجرم تو کسی اور کو ہونا ہے یہاں
یوں بھی درکار ہے مجھ کو کسی بینائی کا لمس
اب کسی اور کا ہونا مِرا ہونا ہے یہاں
اشک پلکوں پہ سجا لوں میں ابھی سے شارق
شب ہے باقی تو تِرا ذکر بھی ہونا ہے یہاں
شارق کیفی
No comments:
Post a Comment