Wednesday, 5 January 2022

مجھ سے تاخیر ہو گئی بات کو سمجھنے میں

 مجھ سے تاخیر ہو گئی زرا سی

بات کو سمجھنے میں

وقت کی نزاکت کو

حیات کی ضرورت کو

جا بجا جو ٹوکا ہے

میری معصوم قدروں کو

گرچہ مجھے تو لگتا تھا

راہ میں جو تھم جائے

ایسی زیست کیا کرنی

دُھول جس پہ پڑ جائے

ایسا اخلاص کیا کرنا

دُھند جن پہ پڑ جائے

ایسے رفیق کیوں ہوں پھر

آج میں نے جانا ہے

زخم اپنے رِس جائیں

تو تجھ سے کیا گِلہ جاناں

ہاں مجھ ہی سے تاخیر ہو گئی

بات کو سمجھنے میں


رابعہ بگٹی

No comments:

Post a Comment