مجھ سے تاخیر ہو گئی زرا سی
بات کو سمجھنے میں
وقت کی نزاکت کو
حیات کی ضرورت کو
جا بجا جو ٹوکا ہے
میری معصوم قدروں کو
گرچہ مجھے تو لگتا تھا
راہ میں جو تھم جائے
ایسی زیست کیا کرنی
دُھول جس پہ پڑ جائے
ایسا اخلاص کیا کرنا
دُھند جن پہ پڑ جائے
ایسے رفیق کیوں ہوں پھر
آج میں نے جانا ہے
زخم اپنے رِس جائیں
تو تجھ سے کیا گِلہ جاناں
ہاں مجھ ہی سے تاخیر ہو گئی
بات کو سمجھنے میں
رابعہ بگٹی
No comments:
Post a Comment