Tuesday, 4 January 2022

میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں

 میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں

مجھے انقلاب کی شاعری کہاں آتی ہے

پر یہ تاریکی اب میرا دل جلاتی ہے

یہاں وحشت کسی معصوم کی عصمت گراتی ہے

یہاں مذہب ہولی کلمے کی کھلاتی ہے

اس عرض پاک کے ہر کوچے سے لہو کی بو آتی ہے

یہاں تہذیب نفرت کے گُل کھلاتی ہے

تمہارے جھنڈے کی پونی سی سفیدی

تمہارے منہ پر کالک سی نظر آتی ہے

میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر

اس ملک نے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھینا ہے

یہ فقط چند امراء کے لیے حیات کا سفینہ ہے

یہاں عزت صرف صاحب حیثیت کا کرینہ ہے

ہم جیسوں کو تو بس جان ہی بچا کر جینا ہے

میں تو عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر

یہاں وردی اور بوٹ کی سیاست ہے

خاموش رہنا ہی بس شرافت ہے

یہاں آواز اٹھانا سب سے بڑی حماقت ہے

بھیڑ چال کی عجب سی ثقافت ہے

آنکھ موندے، لب سلے، ظلم کی روایت ہے

میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر

یہاں بچوں کی راتیں

گمشدہ افراد کے کیمپ پہ گزرتی ہیں

ان کی نادانیاں سردی سے ٹھٹھر کے مرتی ہیں

ایسی بے حس قومیں ارزاں کہاں سدھرتی ہیں؟

یہ بالآخر اپنی موت آپ ہی تو مرتی ہیں

میں تو عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر

یہاں بین کرتا باپ سب کو برا لگتا ہے

کہو کچھ تو ہر محب وطن کا دل سلگتا ہے

منصف کی آنکھ سے لالچ کا جام چھلکتا ہے

پیسہ اچھے اچھوں کی نیت کو بدلتا ہے

یہاں مظلوم کا گلہ کسی ناجائز بچے سا

در در ٹھوکر کھاتا ہوا ڈھلکتا ہے


رابعہ بگٹی

No comments:

Post a Comment