میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں
مجھے انقلاب کی شاعری کہاں آتی ہے
پر یہ تاریکی اب میرا دل جلاتی ہے
یہاں وحشت کسی معصوم کی عصمت گراتی ہے
یہاں مذہب ہولی کلمے کی کھلاتی ہے
اس عرض پاک کے ہر کوچے سے لہو کی بو آتی ہے
یہاں تہذیب نفرت کے گُل کھلاتی ہے
تمہارے جھنڈے کی پونی سی سفیدی
تمہارے منہ پر کالک سی نظر آتی ہے
میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر
اس ملک نے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ چھینا ہے
یہ فقط چند امراء کے لیے حیات کا سفینہ ہے
یہاں عزت صرف صاحب حیثیت کا کرینہ ہے
ہم جیسوں کو تو بس جان ہی بچا کر جینا ہے
میں تو عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر
یہاں وردی اور بوٹ کی سیاست ہے
خاموش رہنا ہی بس شرافت ہے
یہاں آواز اٹھانا سب سے بڑی حماقت ہے
بھیڑ چال کی عجب سی ثقافت ہے
آنکھ موندے، لب سلے، ظلم کی روایت ہے
میں عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر
یہاں بچوں کی راتیں
گمشدہ افراد کے کیمپ پہ گزرتی ہیں
ان کی نادانیاں سردی سے ٹھٹھر کے مرتی ہیں
ایسی بے حس قومیں ارزاں کہاں سدھرتی ہیں؟
یہ بالآخر اپنی موت آپ ہی تو مرتی ہیں
میں تو عشق پر لکھنے والا شاعر ہوں پر
یہاں بین کرتا باپ سب کو برا لگتا ہے
کہو کچھ تو ہر محب وطن کا دل سلگتا ہے
منصف کی آنکھ سے لالچ کا جام چھلکتا ہے
پیسہ اچھے اچھوں کی نیت کو بدلتا ہے
یہاں مظلوم کا گلہ کسی ناجائز بچے سا
در در ٹھوکر کھاتا ہوا ڈھلکتا ہے
رابعہ بگٹی
No comments:
Post a Comment