Tuesday, 4 January 2022

جو بھی کچھ دیکھا سنا سب رائیگاں ہونے کو ہے

جو بھی کچھ دیکھا، سنا، سب رائیگاں ہونے کو ہے

یہ سفر، اگلے سفر کی داستاں ہونے کو ہے

خوف کی گردش میں یوں ہی تو نہیں اہلِ جہاں

کچھ نہ کچھ تو اس جہاں میں ناگہاں ہونے کو ہے

یہ زمیں، میری زمیں، کس کی زمیں، کیسی زمیں

اک دھماکے سے یہ سب کچھ بے نشاں ہونے کو ہے

اک ستارہ جلتا بجھتا ہے رواں میری طرف

ایک حیرت بڑھتے بڑھتے بے کراں ہونے کوہے

آج پھر ٹھہرے ہوئے ہیں یہ زمین وآسماں

آج پھر کوئی کسی پر مہرباں ہونے کو ہے


صابر وسیم

No comments:

Post a Comment