لکیریں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
کہ خوابوں سے بھری آنکھیں
سرابوں سے بھری آنکھیں
یونہی سونے سے ڈرتی ہیں
اداسی میں بھی یہ رونے سے ڈرتی ہیں
یہ سونے سے نہیں، خوابوں کی تعبیروں سے ڈرتی ہیں
یہ ارمانوں کے زندانوں کی زنجیروں سے ڈرتی ہیں
یہ ہاتھوں کی لکیروں سے
یہ تقدیروں سے ڈرتی ہیں
بدن ہے چُور پر آنکھیں
ابھی سونے سے ڈرتی ہیں
سردار فہد
No comments:
Post a Comment