Monday, 12 July 2021

یہ ہاتھوں کی لکیروں سے یہ تقدیروں سے ڈرتی ہیں

 لکیریں


کبھی ایسا بھی ہوتا ہے

کہ خوابوں سے بھری آنکھیں

سرابوں سے بھری آنکھیں

یونہی سونے سے ڈرتی ہیں

اداسی میں بھی یہ رونے سے ڈرتی ہیں

یہ سونے سے نہیں، خوابوں کی تعبیروں سے ڈرتی ہیں

یہ ارمانوں کے زندانوں کی زنجیروں سے ڈرتی ہیں

یہ ہاتھوں کی لکیروں سے

یہ تقدیروں سے ڈرتی ہیں

بدن ہے چُور پر آنکھیں

ابھی سونے سے ڈرتی ہیں


سردار فہد

No comments:

Post a Comment