Monday, 12 July 2021

ٹھیک ہے اجلی یاد کا رشتہ اپنے دل سے ٹوٹا بھی

 ٹھیک ہے اجلی یاد کا رشتہ اپنے دل سے ٹوٹا بھی

دریا دریا آگ اگلتا لیکن تم نے دیکھا بھی

میرے سفر کی پہلی منزل جانے کب تک آئے گی

ہانپ رہا ہے صدیوں پرانا بوڑھا ننگا رستہ بھی

شور شرابہ اندر اندر باہر گہری خاموشی

جاگ اٹھے گا اب کے شاید کوئی باغی لمحہ بھی

ساگر موتی سیپ کے قصے باتوں تک محدود رہے

جھولی جھولی خالی سب کی سب کا من ہے میلا بھی

موسم موسم یاد میں تیری تنہا ہم نے کاٹ دیے

اک لمحے کے میل کا رشتہ سچ ہے کوئی رشتہ بھی

پہلے دن سے ریت ہے یہ تو پھر ان میں پچھتانا کیا

پیار وفا کے کھیل میں عارف ہو جاتا ہے دھوکہ بھی


سید عارف

No comments:

Post a Comment