Friday, 8 January 2021

مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے

 مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے

بدن مرجھا گیا تو پھر مرا سایہ نچوڑا ہے

چلو چھوڑو کہ کیسے روح نکلے ہے بدن میں سے

ذرا اتنا بتاؤ کہ کبھی کپڑا نچوڑا ہے؟

مجھے لہروں کے جیسے لگ رہی ہے ریت صحرا کی

خدا نے ایسا لگتا ہے کوئی دریا نچوڑا ہے

وہ پہلے دن خوشی کا پل دیا تھا عشق نے شاید

بدن سے پھر لہو کا ایک اک قطرہ نچوڑا ہے

ابھی خاموش ہونے سے رہی دریا کی طغیانی

تصوف کا قلندر نے ابھی کوزا نچوڑا ہے

پسینہ، اشک، اینٹوں کا بُرادا، بھوک اور افلاس

یہاں مزدور کے دامن پہ یہ کیا کیا نچوڑا ہے

ابھی کچھ دیر سے ہے چاندنی کا رقص پانی میں

ابھی کچھ دیر پہلے چاند نے چہرا نچوڑا ہے

فقظ دو چار اشکوں کے لیے ہی فہد محنت کی

کسی کی یاد میں جو درد کا صحرا نچوڑا ہے


سردار فہد

No comments:

Post a Comment