مجھے حالات کی اس دھوپ نے کتنا نچوڑا ہے
بدن مرجھا گیا تو پھر مرا سایہ نچوڑا ہے
چلو چھوڑو کہ کیسے روح نکلے ہے بدن میں سے
ذرا اتنا بتاؤ کہ کبھی کپڑا نچوڑا ہے؟
مجھے لہروں کے جیسے لگ رہی ہے ریت صحرا کی
خدا نے ایسا لگتا ہے کوئی دریا نچوڑا ہے
وہ پہلے دن خوشی کا پل دیا تھا عشق نے شاید
بدن سے پھر لہو کا ایک اک قطرہ نچوڑا ہے
ابھی خاموش ہونے سے رہی دریا کی طغیانی
تصوف کا قلندر نے ابھی کوزا نچوڑا ہے
پسینہ، اشک، اینٹوں کا بُرادا، بھوک اور افلاس
یہاں مزدور کے دامن پہ یہ کیا کیا نچوڑا ہے
ابھی کچھ دیر سے ہے چاندنی کا رقص پانی میں
ابھی کچھ دیر پہلے چاند نے چہرا نچوڑا ہے
فقظ دو چار اشکوں کے لیے ہی فہد محنت کی
کسی کی یاد میں جو درد کا صحرا نچوڑا ہے
سردار فہد
No comments:
Post a Comment