Friday, 8 January 2021

چشم طلب جو زلف گرہ گیر تک گئی

 چشمِ طلب جو زلفِ گرہ گیر تک گئی

یہ جستجو بھی خواب کی تعبیر تک گئی

تاریخ رو رہی ہے اسیرانِ وقت پر

لیکن کوئی نگاہ نہ زنجیر تک گئی

لپٹے ہوئے ضبط کے سینے سے مستقل

شہرِ حریفِ عشق میں توقیر تک گئی

غالبؔ سے استفادہ کیا میں نے عمر بھر

ہیئت مری غزل کی مگر میر تک گئی

دزداں اٹھا کے لے گئے گھر سے متاعِ جاں

کچھ بھی رہا نہ یار کی تصویر تک گئی

کاغذ پہ آنسوؤں سے سیاہی بکھر گئی

روئے ہیں ایسے ٹوٹ کے تحریر تک گئی

میں کارواں کی دھول میں گم ہو گیا اسد

میری صدا نہ گوشِ عناں گیر تک گئی


اسد اعوان

No comments:

Post a Comment