تیری تلاش کے ماروں کی نیند پوری ہو
ذرا تو بیٹهو، کہ پیروں کی نیند پوری ہو
وصال کر کے جدائی کا نام تک نہ رہے
پهر اتنا جاگیں کہ برسوں کی نیند پوری ہو
خدا تو چاہے گا خوابوں میں سب رہیں مصروف
خدا تو چاہے گا بندوں کی نیند پوری ہو
تیرا بچهڑنا کہ بس جاگنے کی دوری پہ ہے
تو کیسے خوف کے ماروں کی نیند پوری ہو
یہ روٹی پانی کا جهگڑا ہے اور لوگوں کا
میں چاہتا ہوں کہ ساروں کی نیند پوری ہو
اسی کی مرضی کہ کتنوں کا چوکیدار رہے
اسی کی مرضی کہ جتنوں کی نیند پوری ہو
جو ایک جاگے تو دونوں کو اضطراب رہے
جو ایک سوئے تو دونوں کی نیند پوری ہو
اسامہ ضوریز
No comments:
Post a Comment