رانجھے پہ اگر ہجر کی دیوار گِرے گی
پھر ہیر بھی پڑھتے ہوئے اشعار گرے گی
پتھر تو تراشے گی مگر دل نہ بنے گا
مر مر پہ چلے گی تو لگاتار گرے گی
منہ موڑ لیا باپ نے بیٹی سے یہ کہہ کر
گر سر کو بچایا گیا، دستار گرے گی
سر پھوڑنے والے نے ہلا ڈالی ہے بنیاد
انگلی کے اشارے سے یہ دیوار گرے گی
ہر شخص ہوس زاد ہے، ناپید ہوا عشق
اب حسن کی چادر سرِ بازار گرے گی
کچھ دیر میں بک جائے گا اس دور کا یوسف
قیمت بھی غلاموں کے خریدار، گرے گی
سردار فہد
No comments:
Post a Comment