Thursday, 15 July 2021

اک سمت درد ہجر کا پھر گھر کا روگ ہے

 اک سمت درد ہجر کا پھر گھر کا روگ ہے

جس پر مِرے وجود کو ہر در کا روگ ہے

ایسے بُلا مجھے کہ زمانہ سُنے تجھے

تیری یہ خامشی مِرے اندر کا روگ ہے

عزت تِری سوار ہے سر پر مِرے مگر

دستار کی امان بھی تو سر کا روگ ہے

رستہ یہاں کسی کو کشادہ نہیں ملا

پر آنا تیری راہ میں پتھر کا روگ ہے

پرواز کو اُڑا نہیں بچھڑا ہے جب سے دوست

پنچھی کو کافی زیادہ کٹے پر کا روگ ہے

زندوں کو دُکھ ہے حانی کہ زندہ ہیں کس لیے

جینا ہمارے شہر میں اکثر کا روگ ہے


حنان حانی

No comments:

Post a Comment