اٹل ہے فیصلہ میرا، سو اب کچھ ہو نہیں سکتا
تُو میرا ہو نہیں پایا،۔ میں تیرا ہو نہیں سکتا
مِری تنہائی مجھ سے کھو گئی تھی تیرے ملنے پر
یہ پھر سے لوٹ آئی ہے، اسے اب کھو نہیں سکتا
جہاں میں اور بھی دُکھ ہیں، جنہیں آنسو دئیے جائیں
تمہارے دُکھ میں اب ہر پل، میں ہر گز رو نہیں سکتا
مِرے کچھ درد باقی ہیں، انہیں عادت بنانی ہے
انہیں عادت بنانے تک میں بلکل سو نہیں سکتا
علی! گھر آ گیا میرا،۔ مجھے آرام کرنا ہے
میں بے حد تھک چکا ہوں اور خود کو ڈھو نہیں سکتا
علی سرمد
No comments:
Post a Comment