میرے دیدہ ورو
میرے دانشورو
پاؤں زخمی سہی
ڈگمگاتے چلو
راہ میں سنگ و آہن
کے ٹکراؤ سے
اپنی زنجیر کو
جگمگاتے چلو
رود کش نیک و بد
کتنے کوتاہ قد
سر میں بادل لیے
ہیں تہیہ کیے
بارش زہر کا
اک نئے قہر کا
میرے دیدہ ورو
میرے دانشورو
اپنی تحریر سے
اپنی تقدیر سے
نقش کرتے چلو
تھام لو ایک دم
یہ عصائے قلم
ایک فرعون کیا
لاکھ فرعون ہوں
ڈوب ہی جائیں گے
شیخ ایاز
No comments:
Post a Comment