Thursday, 15 July 2021

یوں ہی گزرے نہ رات خوشیوں کی

 یوں ہی گزرے نہ رات خوشیوں کی

کچھ تو کر ہم سے بات خوشیوں کی

تھام لو تم خوشی کے دامن کو

مختصر ہے حیات خوشیوں کی

چھوڑ کر غم کے تذکرے سارے

آؤ چھیڑیں گے بات خوشیوں کی

غم نہ آئے تمہاری قسمت میں

گر نکالو زکوٰۃ خوشیوں کی

میں نے اپنوں پہ اعتماد کیا

لُٹ گئی کائنات خوشیوں کی

جینا سیکھو ہر ایک لمحے کو

غم لگائے ہیں گھات خوشیوں کی

حق پسندی ہے بس متاعِ حیات

ہے یہی کائنات خوشیوں کی

جا کے فاراں پہ دیکھنا حسان

اک حسیں کائنات خوشیوں کی


حسان عارفی

No comments:

Post a Comment