Friday, 19 November 2021

سانس لینے کی سہولت سے گئے

 سانس لینے کی سہولت سے گئے

ہم تِرے بعد محبت سے گئے

زندگی تیز چلی اور ہم لوگ

تجھ سے ملنے کی سعادت سے گئے

ہم نئے لوگ گنوا کر دلی

میر صاحب کی روایت سے گئے

اک توجہ کو نہ سمجھا نزدیک

اک تمنا کی اذیت سے گئے

تیرے جانے سے یہی فرق پڑا

ایک معمول کی عادت سے گئے


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment