Friday, 19 November 2021

اڑان بھر کے فضاؤں میں کھلکھلائیں ہم

 اڑان بھر کے فضاؤں میں کھلکھلائیں ہم

یہ فلسفہ ہے کسی کا، مگر نبھائیں ہم

وہ ہاتھ بھی نہ ملائے تو کوئی بات نہیں

یہ مصلحت ہے کہ اس کو گلے لگائیں ہم

تِرے بدن کے تقاضے کچھ اور کہتے ہیں

تُو فاصلے سے ملے، لاکھ پاس آئیں ہم

کسی بھی شہر میں کوئی تپاک سے نہ ملا

یہ طے ہوا ہے کہ اب گاؤں لوٹ جائیں ہم

تِرے خیال کو ہم شکل دے نہیں سکتے

یہ وہم ہی سہی شاید بھٹک نہ جائیں ہم


شمیم قاسمی

No comments:

Post a Comment