ابھرتے ڈوبتے تارے پہ کون جیتا ہے
شرابیوں کے سہارے پہ کون جیتا ہے
سڑک پہ ایک بھکاری نے بھوک چنتے کہا
تمام عمر کے لارے پہ کون جیتا ہے
محبتوں میں ہیں درکار بولتی آنکھیں
تِرے خموش اشارے پہ کون جیتا ہے
جدائیوں کے بھنور میں اترنے سے پہلے
مِرے عزیز! کنارے پہ کون جیتا ہے
یہ دیکھنا ہے مکمل بدن کے ساتھ مجھے
کہ تیرے ہجر کے آرے پہ کون جیتا ہے
اے آرزو کے چمکتے ہوئے فلک زادے
بجھے بجھے سے ستارے پہ کون جیتا ہے
اسی لیے تو تِرے بعد خوب عشق کیا
اس عمر بھر کے خسارے پہ کون جیتا ہے
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment