سرِ آب و ہوا موسم جدا ہے
زمیں وحشت زدہ ہے دل برا ہے
مِری وحشت کو شہرت مل رہی تھی
مجھے دشتِ رواں کا سامنا ہے
تمہاری آنکھ سے کیسے گِرا ہوں
یہی سچ آنسوؤں سے پوچھنا ہے
ہمارے آئینے سے پوچھتے ہو
ہمارا آئینہ کم بولتا ہے
میں یہ جو پہلی بارش دیکھتا ہوں
اداسی کو برستا دیکھنا ہے
شناسائی محبت سے ملے گی
مِرا دشمن مِرے گھر آ گیا ہے
گزرتی ہی نہیں عمرِ گزشتہ
محبت رفتگاں کا معجزہ ہے
ستارے طاقچوں میں جل رہے ہیں
فلک کی ہاتھ میں میرا دیا ہے
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment