Monday, 7 February 2022

کام بھی ہم عجیب کرتے ہیں

کام بھی ہم عجیب کرتے ہیں

چاہے جس کو رقیب کرتے ہیں

کر کے خود ذکر ان سے ملنے کا

رازداں کو رقیب کرتے ہیں

بات کچھ تو ضرور ہے ورنہ

کب ہر اک کو حبیب کرتے ہیں

کس طرح دوریاں یہ ہوں گی دور

دور جا کر قریب کرتے ہیں

عشق کی داستاں سناتے ہوئے

ذکر دار و صلیب کرتے ہیں

ان کے خوابوں میں اور ہم اے اویس

چاہ یہ خوش نصیب کرتے ہیں


محمد اویس خاں

No comments:

Post a Comment