کام بھی ہم عجیب کرتے ہیں
چاہے جس کو رقیب کرتے ہیں
کر کے خود ذکر ان سے ملنے کا
رازداں کو رقیب کرتے ہیں
بات کچھ تو ضرور ہے ورنہ
کب ہر اک کو حبیب کرتے ہیں
کس طرح دوریاں یہ ہوں گی دور
دور جا کر قریب کرتے ہیں
عشق کی داستاں سناتے ہوئے
ذکر دار و صلیب کرتے ہیں
ان کے خوابوں میں اور ہم اے اویس
چاہ یہ خوش نصیب کرتے ہیں
محمد اویس خاں
No comments:
Post a Comment