خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی
شجر کے پاس سوائے دعا نہیں کچھ بھی
تمہارے غصے پہ دل کو دلاسہ دینے لگا
سمجھ رہو کہ میری انا نہیں کچھ بھی
ڈھلے جو دن تو مِرے اشک جگمگانے لگیں
یہ چاند رات یہ جلتا دِیا نہیں کچھ بھی
فضول بات ہے لیکن مِرا یقیں دیکھو
تمہارے ہوتے ہوئے دوسرا نہیں کچھ بھی
کہ تیرے بعد تِرے درد کا نیا موسم
نیا نیا سا پے لیکن نیا نہیں کچھ بھی
ہمارے ہجر کی بے چینیوں کو کون سنے
میں بولتا رہا اس نے سنا نہیں کچھ بھی
میں ارتضیٰ کا بسر کر رہا ہوں ہجر عزیز
یہ لوگ کہتے ہیں جیسے ہوا نہیں کچھ بھی
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment