Monday, 15 November 2021

خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی

 خزاں کے زور سے لڑتی صدا نہیں کچھ بھی

شجر کے پاس سوائے دعا نہیں کچھ بھی

تمہارے غصے پہ دل کو دلاسہ دینے لگا

سمجھ رہو کہ میری انا نہیں کچھ بھی

ڈھلے جو دن تو مِرے اشک جگمگانے لگیں

یہ چاند رات یہ جلتا دِیا نہیں کچھ بھی

فضول بات ہے لیکن مِرا یقیں دیکھو

تمہارے ہوتے ہوئے دوسرا نہیں کچھ بھی

کہ تیرے بعد تِرے درد کا نیا موسم

نیا نیا سا پے لیکن نیا نہیں کچھ بھی

ہمارے ہجر کی بے چینیوں کو کون سنے

میں بولتا رہا اس نے سنا نہیں کچھ بھی

میں ارتضیٰ کا بسر کر رہا ہوں ہجر عزیز

یہ لوگ کہتے ہیں جیسے ہوا نہیں کچھ بھی


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment