وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے
نئے سفر پہ مِرا دل بھی تب نکلتا ہے
تمہارے ہاتھ سے آتی ہے اجنبی سی مہک
سو تم سے دوری کا یہ بھی سبب نکلتا ہے
اسی کو یار میسر ہے خوش نظر ہونا
جو دیکھ لے کہ نیا چاند کب نکلتا ہے
وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے وقاص عزیز
جو اس زمانے میں بھی بے طلب نکلتا ہے
وقاص عزیز
No comments:
Post a Comment