Sunday, 21 November 2021

وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے

 وہ شخص میرے برابر سے جب نکلتا ہے

نئے سفر پہ مِرا دل بھی تب نکلتا ہے

تمہارے ہاتھ سے آتی ہے اجنبی سی مہک

سو تم سے دوری کا یہ بھی سبب نکلتا ہے

اسی کو یار میسر ہے خوش نظر ہونا

جو دیکھ لے کہ نیا چاند کب نکلتا ہے

وہ پوچھتے ہیں کہ یہ کون ہے وقاص عزیز

جو اس زمانے میں بھی بے طلب نکلتا ہے


وقاص عزیز

No comments:

Post a Comment