Sunday, 21 November 2021

کسی انجان رستے پر محبت کھو گئی ہم سے

 کسی انجان رستے پر، محبت کھو گئی ہم سے

اکیلے لوٹ آئے گھر، محبت کھو گئی ہم سے

بہت بے تاب ہے یہ دل، کہاں جائیں، کدھر جائیں

کہیں کس سے یہ ہم جا کر، محبت کھو گئی ہم سے

سمٹ کر روح بیٹھی ہے بدن کے ایک کونے مِیں

کھُلے دُکھ درد کے سب در، محبت کھو گئی ہم سے

نگاہیں دیکھتی راہیں،۔ کسی کی منتظر پیہم

ہُوا اشکوں سے دامن تر، محبت کھو گئی ہم سے

اُداسی چیختی ہے اب، دُکھوں کے درمیاں کاجل

پٹختا ہے مقدر سر،۔ محبت کھو گئی ہم سے


سمیرا سلیم کاجل

No comments:

Post a Comment