Monday, 5 October 2020

محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

 محبت رنگ دے جاتی ہے جب دل دل سے ملتا ہے

مگر مشکل تو یہ ہے دل بڑی مشکل سے ملتا ہے

کشش سے کب ہے خالی تشنہ کامی تشنہ کاموں کی

کہ بڑھ کر موجۂ دریا لبِ ساحل سے ملتا ہے

لٹاتے ہیں وہ دولت حسن کی باور نہیں آتا

ہمیں تو ایک بوسہ بھی بڑی مشکل سے ملتا ہے

گلے مل کر وہ رخصت ہو رہے ہیں ہائے کیا کہنے

یہ حالت ہے کہ بسمل جس طرح بسمل سے ملتا ہے

شہادت کی خوشی ایسی ہے مشتاقِ شہادت کو

کبھی خنجر سے ملتا ہے، کبھی قاتل سے ملتا ہے

وہ مجھ کو دیکھ کر کچھ اپنے دل میں جھینپ جاتے ہیں

کوئی پروانہ جب شمعِ سرِ محفل سے ملتا ہے

خدا جانے غبارِ راہ ہے یا قیس ہے لیلیٰ

کوئی آغوش کھولے پردۂ محمل سے ملتا ہے

جلیل اس کی طلب سے باز رہنا سخت غفلت ہے

غنیمت جانیے اس کو کہ وہ مشکل سے ملتا ہے


جلیل مانکپوری

No comments:

Post a Comment