بات میری تو سمجھ میں نہیں آئی صاحب
کیا کسی نے نہیں تہذیب سکھائی صاحب
گندگی، صرف جو آنکھوں سے چھلکتی تھی کبھی
اب کے باتوں میں بھی کھُل کر اُتر آئی صاحب
میرا تو کچھ نہیں بگڑا، نہ بگڑ پائے گا
آپ نے اپنی ہی اوقات دکھائی صاحب
بس کہ ہر چیز پہ یہ آپ سی گندی مکھیاں
ٹوٹ پڑتی ہیں کہ گویا ہو مٹھائی صاحب
اب بھی موقع ہے سُدھر جائیں یہیں پر، ورنہ
یاد رکھیں گے کہاں ٹانگ اَڑائی صاحب
آپ کا نام سرِ عام اُچھالوں یا پھر؟
اتنی کافی ہے جو کر دی ہے دُھلائی صاحب
بُھول جاتے ہیں ہمیشہ کہ علی کی بیٹی
غیظ میں آئے تو ہِل جائے خدائی صاحب
فریحہ نقوی
No comments:
Post a Comment