بے رخی سے کلام کر رہے ہو
عشق کا اختتام کر رہے ہو
میرے دل سے چلے گئے تھے تم
کس کے دل میں قیام کر رہے ہو
مدتوں بعد ملنے آیا ہوں
دور سے ہی سلام کر رہے ہو
باغ میں کس سے ملنے آئے ہو
جو سنور کے خرام کر رہے ہو
اس کی یادوں میں کیوں اسامہ تم
اپنا جینا حرام کر رہے ہو
اسامہ گلزار
No comments:
Post a Comment