Saturday, 12 February 2022

بے رخی سے کلام کر رہے ہو

بے رخی سے کلام کر رہے ہو 

عشق کا اختتام کر رہے ہو 

میرے دل سے چلے گئے تھے تم 

کس کے دل میں قیام کر رہے ہو 

مدتوں بعد ملنے آیا ہوں 

دور سے ہی سلام کر رہے ہو 

باغ میں کس سے ملنے آئے ہو 

جو سنور کے خرام کر رہے ہو 

اس کی یادوں میں کیوں اسامہ تم 

اپنا جینا حرام کر رہے ہو


اسامہ گلزار

No comments:

Post a Comment